ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جے این یو پر بہار کے ڈپٹی سی ایم سشیل مودی بولے، کیمپس میں بیف پارٹی کرنے والے شہری نکسلی غریب طالب علموں کو کررہے ہیں گمراہ

جے این یو پر بہار کے ڈپٹی سی ایم سشیل مودی بولے، کیمپس میں بیف پارٹی کرنے والے شہری نکسلی غریب طالب علموں کو کررہے ہیں گمراہ

Wed, 20 Nov 2019 20:38:15    S.O. News Service

نئی دہلی،20/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) جواہر لالو نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں اضافی فیس کے خلاف چل رہے مظاہرے پر بہار کے نائب وزیر اعلی سشیل کمار مودی نے ٹویٹ کر کے مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ سشیل مودی نے کہا ہے کہ اضافی فیس کا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ کیمپس میں بیف پارٹی کرنے والے شہری نکسلی غریب طالب علموں کو گمراہ کر کے اپنی سیاسی روٹیاں سینکنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نے کہا کہ جے این یو میں فیس اضافہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں کہ اس کے لئے پارلیمنٹ مارچ نکالا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ جو شہری نکسلی اس کیمپس میں بیف پارٹی، اور ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے نعرے لگانے جیسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں وہ اب غریب طالب علموں کو گمراہ کر کے سیاسی روٹیاں سینکنا چاہتے ہیں۔بتا دیں جے این یو کے طالب علم ہاسٹل فیس میں اضافہ کی وجہ سے گزشتہ 3 ہفتوں سے مظاہرہ کررہے ہیں۔طالب علموں نے پیر کو پارلیمنٹ سیشن کے آغاز ہونے کے پہلے ہی دن اپنے مطالبات کی حمایت میں پارلیمنٹ مارچ کیا تھا۔پارلیمنٹ مارچ کے دوران طالب علم اور پولیس میں جھڑپ ہو گئی تھی جس میں کئی طالب علم اور کچھ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔واقعہ کے بعد یہ مسئلہ لوک سبھا میں گونجاترنمول کانگریس کے سوگت رائے نے طالب علموں پر کئے گئے پولیس کی زیادتی کا معاملہ وقفہ صفر کے دوران اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ جے این یو کے طلباء پر لاٹھیاں چلائی گئی ہیں۔ہمارے یہاں یہ نظام ہے کہ اعلی تعلیم سرکاری اخراجات پر ملے، تاکہ غریب بچے بھی اعلی تعلیم حاصل کر سکے۔وہیں کانگریس رکن ٹی این پرتاپن نے بھی وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہاکہ جے این یو میں حکومت آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔وہ پولیس لاٹھی چارج کی کارروائی کی اعلی سطحی جانچ کا مطالبہ کرتے ہیں۔سشیل مودی کی ٹویٹس کے بعد سوشل میڈیا میں ان کے بیان کی جم کر بحث ہو رہی ہے۔وہیں بہار کے جانے مانے استاد اند کمار نے کہا ہے کہ غریب میدھاوی طالب علموں کو اسکالرشپ اور دوسرے طریقے سے مدد مہیا کرانی چاہئے۔ حکام، طالب علموں کو ایک ساتھ بیٹھ کرایک حل نکالنا چاہیے۔حکومت کو فیس بڑھانے کے فیصلے پر ایک بار پھر غور کرنا چاہئے تاکہ ضرورت مند محروم نہ رہ جائیں۔


Share: